اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی برپورٹ کے مطابق، امریکی کانگریس کے ریپبلکن رکن تھامس میسی نے موجودہ امریکی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اب شہادت کی ایک علامت بن چکے ہیں۔
امریکی نشریاتی نیٹ ورک سی اسپین کے مطابق تھامس میسی نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مہاجرین یورپ اور امریکہ کی طرف رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو وینزویلانہیں ہے، کیونکہ آیت اللہ خامنہ ای کوئی عام صدر نہیں بلکہ خطے کے ایک مذہبی رہنما تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے جبکہ اس سے بڑھ کر چھ امریکی خاندانوں کو اپنے بیٹے اور بیٹیاں کھونا پڑے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر اس جنگ کی ضرورت کیا تھی، جبکہ موجودہ امریکی حکومت ابھی تک اس بات کی واضح وضاحت دینے میں ناکام رہی ہے کہ یہ پیشگی جنگ کیوں شروع کی گئی۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی 28 فروری 2026 کی صبح شروع ہوئی تھی، جس کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب ایران اور امریکہ کے درمیان چند علاقائی ممالک کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ عملی طور پر مذاکرات، اعتماد سازی اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر مکمل طور پر کاربند نہیں اور وہ اب بھی سیاسی دباؤ کے لیے فوجی طاقت کو ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔
ایران نے اس مشترکہ حملے کے جواب میں سخت اور ہدفی کارروائی کی۔ ایرانی فورسز نے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں مختلف شہروں میں موجود فوجی اور سکیورٹی تنصیبات کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔
ایران کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جائز حقِ دفاع کے دائرے میں کی گئیں، جن کا مقصد جارحیت کو روکنا، اس کے تسلسل کو ختم کرنا اور حملہ آوروں کو اس کی قیمت چکانے پر مجبور کرنا تھا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے یا ان کا دائرہ وسیع ہوا تو اس کا جواب اس سے بھی زیادہ سخت اور وسیع پیمانے پر دیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ